حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے وزیرِ داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے ماہِ محرم الحرام کی آمد سے قبل حسبِ معمول ماتمی انجمنوں، حسینیہ و امامبارگاہ اور مجالسِ عزاء کے منتظمین کو طلب کرکے حکومتی ہدایات اور انتباہات سے آگاہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس سال شیعہ برادری کے خلاف جاری دباؤ کے باعث محرم کی فضا گزشتہ برسوں سے مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ داخلہ نے منتظمین کے ساتھ ملاقات میں نظریۂ ولایتِ فقیہ پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عاشورا کو سیاسی رنگ دینے کے حوالے سے حکومت کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بحرین میں شیعہ شناخت اور مذہبی شعائر کے حوالے سے حکومتی رویہ پہلے سے زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے اور عاشورا کو ایک مذہبی مناسبت کے بجائے سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی اقدامات صرف انتظامی یا حفاظتی ہدایات تک محدود نہیں بلکہ عزاداری کے مختلف پہلوؤں، جیسے مذہبی خطابات، اشعار، پرچموں اور جلوسوں پر بھی نگرانی بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت عزاداری کو سرکاری سکیورٹی نقطۂ نظر کے مطابق منظم کرنا چاہتی ہے، جبکہ شیعہ برادری اسے اپنی دینی، تاریخی اور سماجی شناخت کا حصہ قرار دیتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں شہریت کی منسوخی، طلبی کے نوٹسز، ذرائع ابلاغ میں بعض مہمات اور دینی شخصیات کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں محرم سے متعلق یہ اقدامات ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ تصور کیے جا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق عاشورا بحرین کے شیعہ عوام کے لیے صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ اپنی دینی شناخت، تاریخی شعور اور اہل بیت علیہم السلام سے وابستگی کے اظہار کا اہم موقع ہے، اسی لیے عزاداری پر کسی بھی قسم کی پابندی یا دباؤ کو حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں اس سال محرم کے دوران حکومتی پابندیوں اور مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے رویّے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ شیعہ برادری اپنے مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی کو اپنا بنیادی حق قرار دے رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ